کیتھل، 2/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پنجاب میں 14سالہ ایک لڑکی کے ساتھ عصمت دری کا واقعہ روشنی میں آیا ہے، لیکن اس سے بھی شرمناک اس کے ساتھ پولیس والوں کا وہ سلوک تھا جسے سن کر ہر کوئی شرمسار ہو گیا۔کیتھل میں مرد پولیس اہلکاروں نے جانچ کے نام پر متاثرہ کے کپڑے اترواڈالے۔الزام ہے کہ اس دوران ایک پولیس اہلکار نے متاثرہ کی رانوں کو بھی چھوا۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق،عصمت دری کی متاثرہ 14سالہ لڑکی نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے انصاف کی فریاد ہے۔متاثرہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جج نے ایک نوٹس جاری کرکے ہریانہ کے ڈی جی پی سے اگلی سماعت سے پہلے جواب طلب کیا ہے۔متاثرہ نے بتایا کہ اس نے 20/نومبر 2016کو عصمت دری کی شکایت درج کروائی تھی۔متاثرہ ملزم کو جانتی ہے۔کیتھل میں جوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے متاثرہ کا بیان درج کروایا گیاہے، متاثرہ نے مجسٹریٹ کو پولیس والوں کے رویے کے بارے میں بھی بتایا۔متاثرہ کے مطابق، 23/نومبر کو پولیس اہلکار عصمت دری کے ملزم کے ساتھ اس کو کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے)دفتر لے کر آئے تھے۔شکایت کے مطابق، ایک پولیس اہلکار نے متاثرہ سے کہا کہ وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر دکھائے کہ اس کا ریپ ہوا ہے، اس کے بعد ایک پولیس اہلکار نے اس کی رانوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ملزم پولیس اہلکاروں نے متاثرہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے یہ بات کسی سے کہی تو اس کا میڈیکل نہیں کروایا جائے گا۔متاثرہ نے خود کے ساتھ ہوئے اس شرمناک رویے کے لیے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔متاثرہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی پی سے اس معاملہ میں مداخلت کے مطالبہ کے باوجود ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔